Type Here to Get Search Results !

When one reads the history of Algeria carefully, one realizes that it is the land of the martyrs.

 جب کوئی شخص الجزائر کی تاریخ کو غور سے پڑھتا ہے تو اُسے پتا چلتا ہے کہ یہ شہداء کی سرزمین ہے, وہ شہدا جنہوں نے الجزائر کی سرزمین پر اسلام کو بچانے کے لئے اپنا خون اس دھرتی کو پلایا.


الجزائر میں فرانسیسی نوآبادیات کا دورانیہ جو ۱۳۲ سال تک رہا, اس طویل عرصے میں الجزائر میں ۸ لاکھ شہیدوں کا خون ندیوں کی مانند بہایا گیا.

ان شہیدوں میں جنہوں نے بیسویں صدی میں فرانسیسی استعماری طاقت کا #قلم سے جہاد کیا تھا اُن میں #شیخ_العرب_التبسی نمایاں ہیں, جنکو فرانسیسی فوج نے اس طریقے سے شہید کیا جو تاریخِ انسانی میں انتہائی خوفناک طریقہ سمجھا جاتا ہے, اور جو فرانس کی سیاہ تاریخ میں ایک دھبے کی صورت میں موجود رہے گا.

نوآبادیاتی فرانس نے ۱۸۳۰ میں الجزائر کی سرزمین پر قبضہ کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر عیسائیت کی تبلیغ کرنے اور اسلام کو ختم کرنے پر خصوصی توجہ دی, اس مقصد کے لئے ہزاروں عیسائی مشنریوں کو الجزائر میں منظم کیا, سیکنڑوں مساجد کو شہید کیا اور الجزائر کے لوگون کو زبردستی عیسائی مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا.

شیخ العربی التبسی وہ مذہبی اسکالر تھے جنہوں نے الجزائر میں اسلام اور اسلامی تشخص کو بچانے کے لئے ﷲ سے عہد کیا اور اپنی کتابوں اور تقریروں کے زریعے الجزائر کے لوگوں میں جِہاد کے جذبے کو ختم نہ ہونے دیا.
شیخ العربی کو الجزائر کی تاریخ میں"وہ شہید جس کے پاس کوئی قبر نہیں ہے" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے.

ان کا پورا نام "العربی بن بلقاسم بن مبارک التبسی ہے"
شیخ العربی ۱۸۹۵ میں الجزائر کے مشرق میں واقع #تبسہ گاؤں کے غریب کسان کے گھر میں پیدا ہوئے, آپ کے والد مقامی مسجد کے امام تھے, آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور ۱۸ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا اور یہیں سے ہی اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا.
١٩١٠ میں تیونس چلے گئے جہاں جامعة زیتونہ میں داخلہ لیا اور ١۹١۴ میں علومِ آلیہ, تجوید القرآن, صرف ونحو اور فقہ التوحید میں سند حاصل کی.
١۹۲۰ میں جامعةالازہر میں داخلہ لیا اور یہاں سے علومِ شریعہ اور اسلامیہ میں سند حاصل کی, شیخ العربی انقلاب اور جہاد کے جذبے کے ساتھ ١۹۲۷ میں واپس الجزائر آگئے, وہ ایک ایسے آتشیں اسلحے کی مانند تھے جس سے فرانسیسی استعمار خوف زدہ ہوگیا.

شیخ العربی التبسی نے اپنی تقریروں کے زریعے الجزائریوں کی انقلاب اور جہاد میں تربیت کو لاعلمی سے نجات دلانے کے لئے ایک تجدیدی انقلاب کی رہنمائی کی, فرامسیسی استعمار نے شیخ العربی کو الجزائریوں کے دل و دماغ میں دفن کرنے کی بھرپور کوشش کی.

خدا تعالٰی نے شیخ العربی کی شہادت لکھی ہوئی تھی, چنانچہ آپ کو ٣ رمضان ١٣۷۶ ھ بمطابق ۴ اپریل ١۹۵۷ کو فرانسیسی فوج کی انٹیلیجنس ایجنسی نے الجزائر کے دارلحکومت میں واقع آپ کے گھر سے اغواء کیا.

#وحشیانہ_قتل

یہ بات مشہور ہے کہ الجزائر کے آزادی انقلاب کے رہنماؤں کی قسمت یہ ہے کہ وہ فرانس کے بنائے گئے عقوبت خانوں میں شہید ہو کر ہی نکلتے ہیں, اور فرانسیسی استعمار الجزائریوں کے قتلِ عام میں مہارت کے طور پر جانا جاتا ہے, خواہ وہ انقلابی رہنما ہوں یا جنگجو ہوں.

تاہم کسی کو بھی یہ توقع نہیں تھی کہ فرانسیسی انسانیت کے معیار کو ہی بھول جائیں گے, اور کسی انسان کو ایسے طریقے سے ہلاک کریں گے, جو جدید تاریخ انسانی نے آج تک نہ سُنا ہو ایسا طریقہ جس سے #اُمیہ_بن_خلف کی روح بھی کانپ جائے, ایک ایسا طریقہ جو فرانسیسی تاریخ کے سیاہ باب کے ساتھ ہمیشہ منسلک رہے گا.

تاریخی شہادتوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شیخ العربی التبسی کو اغوا کے بعد فرانسیسی فوج کے ہیڈ کوارٹر لے جایا گیا, جہاں پر انہیں انقلاب کی حمائیت کرنے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا, ان پر تشدد کیا گیا اور انہیں پھانسی پر لٹکانے کی دھمکی دی گئ.

شیخ العربی نے اپنے ملک میں جاری انقلاب کی حمائیت سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا.
فرانسیسی حکمرانوں نے انتہائی خطرناک انداز میں شیخ کے قتل کا حکم دیا, چنانچہ ایک بڑے کڑاہے میں #تارکول ڈال کر اُسے انتہا درجے تک گرم کیاگیا اور اس کھولتے ہوئے تارکول میں شیخ العربی التبیسی کو ڈال دیا گیا.

یوں ١۷ اپریل ١۹۵۸ کو اس عظیم مجاہد, ایک انقلابی لیڈر اور ایک عالم دین کی شہادت ہوئی.

ﷲ تعالیٰ شیخ العربی التبیسی کے درجات کو بلند فرماوے اور ہمیں بھی ایسے بہادر اور انقلابی لیڈر عطا فرماوے.
#یاد_رہے_الجزائر_کے_مسلمانوں_پر_فرانس_کے_مظالم_کی_داستان_بہت_دکھ_بھری_اور_لمبی_ہے

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.