ترکی فرشتہ
فارسی کا مقولہ ہے۔۔۔ غمِ دین غم شود دیگر غم نیست (دین کا غم اگر غم بن جائے تو سارے غم ختم ہو جاتے ہیں)ترکی سے تعلق رکھنے والے یہ بابا جی اس مقولے کا عملی مصداق ہیں۔ عثمانی خلیفہ عبد الحمید ثانی کے زمانے کے کئی نامور علما کے شاگرد شیخ نعمت اللہ کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے کہ زیادہ سے لوگوں کا تعلق اپنے خالق سے جوڑا جائے۔ اس فکر میں وہ نوجوانی میں گھر سے نکلے تھے۔ حالانکہ اس وقت وہ استنبول کی سلطان احمد میں موذن تھے۔ مگر غم دین نے انہیں چین نہیں لینے دیا۔ پہلے وہ مدینہ منورہ آئے، یہاں روضہ رسول کا مجاور بن کر علما سے پندرہ برس تک علم حاصل کرتے رہے۔ پھر وہ مکہ مکرمہ چلے گئے۔ جہاں وہ مسجد النور میں امام بن گئے اور کچھ عرصہ وہاں مقیم رہنے کے بعد ایک نہ ختم ہونے والے سفر پہ روانہ ہوگئے۔ اب تک وہ 60 ممالک کی خاک چھان چکے ہیں۔ جن میں سائبیریا جیسا سرد ترین علاقہ بھی شامل ہے۔ ان کی دعوت کا اسلوب و انداز بہت سادہ اور نرالہ ہے۔ شیخ نعمت اللہ نے دنیا کی دس بڑی زبانوں میں ایک مختصر سا دعوت نامہ کارڈ کی صورت چھپوا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ انہی الفاظ میں لوگوں کو دعوت دیتے ہیں، جو نبی آخر الزماں علیہ الصلوٰۃ و السلام کے تھے۔ یعنی قولوا لا الہ الا اللہ تفلحو۔ کلمہ طیبہ پڑھو کامیاب ہو جاؤگے۔ سر سے پیر تک سفید لباس میں ملبوس سفید بالوں والے شیخ نعمت کی عمر سو برس سے زائد ہے، اس لئے وہ دکھنے میں فرشتہ نظر آتے ہیں۔ ان کی زبان میں ایسی تاثیر ہے کہ ہزاروں لوگ ان کے ہاتھوں پکی توبہ کر چکے ہیں۔ اس وقت وہ جاپان میں مقیم ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب وہ جاپان آئے تھے تو اس وقت جاپان میں صرف دو مسجدیں تھیں۔ اب ان کی محنت سے مساجد کی تعداد دو سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس سے قبل وہ چین میں بے شمار لوگوں کو راہ راست لا چکے ہیں۔ 1981 میں انہوں نے چین میں 20 ہزار قرآن پاک تقسیم کئے۔ وہ اردو سمیت کئی زبانوں کے ماہر ہیں۔ ان کی بات میں دل موہ لینے والی تاثیر ہے۔ چند سیکنڈ کی گفتگو سے انسان کو اپنا اسیر بنالیتے ہیں۔ میڈیا اور شہرت سے سخت نفرت ہے انہیں۔ اس لئے اپنی مساعی جمیلہ اور پونے صدی کی طویل ترین داستان کے بارے میں وہ کچھ نہیں بتاتے۔ مگر کچھ عرب علما نے ان کے احوال اور دعوت کے مختلف ایمان افروز واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ ایک مرتبہ وہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے ایک شراب خانے میں گئے تو دیکھا کہ کچھ مسلمان بھی وہاں موجود ہیں۔ ان نے چند جملے کہے تو سب نے توبہ کرلی اور ان کے ساتھ مسجد روانہ ہوگئے۔ ایک نوجوان نے کہا کہ میں جنابت سے ہوں، نماز نہیں پڑھ سکتا، شیخ نے مسجد میں ہی اس کے غسل کا انتظام کردیا۔ طویل زمانہ بعد شیخ نے ایک مرتبہ نماز سے سلام پھیرا تو سر پہ عمامہ سجائے ایک شخص آیا اور اس نے شیخ کے ہاتھوں کا بوسہ دیا اور کہا کہ آپ ہی کے طفیل مجھے ہدایت ملی تھی۔ اس کے طرح کئی اور واقعات جاپان میں مقیم ایک عالم دین شیخ صالح مہدی السامرائی نے لکھے ہیں۔ شیخ سامرائی کا کہنا ہے کہ شیخ تقریبا چودہ برس سے میرے پاس ٹوکیو میں مقیم ہیں۔ صبح سے شام تک سڑکوں پہ گھومتے ہیں اور لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ بلاشبہ ہزاروں جاپانی ان کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوچکے ہیں۔ غیرمسلموں کے ساتھ وہ مسلمانوں پر بھی محنت کرتے ہیں۔ نماز فجر کیلئے لوگوں کو لانے کیلئے ٹیکسی کرکے ان کے گھروں تک جاتے ہیں۔ بہت عجیب انسان ہیں، ہم انہیں ایک پائی نہیں دیتے، مگر خدا جانے وہ پیسے کہاں سے لاتے ہیں۔ کبھی کسی کی غیبت کرتے نہیں سنا۔
ضیاء چترالی
