اللّٰہ پاک ہم سب پر اپنا کرم فرمائے اور اس مبارک شب کے طفیل ہمارے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف کردے اور تمام دنیا کیلئے آسانیاں کردے آمین آج کا,دن مسلمانوں کے لیے مبارک دن ہے سب لوگوں سے گذارش کرتا ہوں کہ توبہ و مغفرت کی دعا فرمائے اور اپنے اعمال کو درست کریں اور اس مشکل وقت میں انسانیت کے لیے دعائے کریں اللّٰہ تعالی ہم سب کو اپنی حفاظت میں رکھے اور اس وبائی امراض سے بھی اب انسانوں کو جلد نجات عطا فرمائے اور ایک دفعہ پھر دنیا کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنادے آمین
معراج کمالِ معجزات مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ یہ وہ عظیم خارقِ عادت واقعہ ہے جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداء کی۔ اِنسان نے آگے چل کر تحقیق و جستجو کے بند کواڑوں پر دستک دی اور خلاء میں پیچیدہ راستوں کی تلاش کا فریضہ سر انجام دیا۔ رات کے مختصر سے وقفے میں جب اللّٰہ ربّ العزّت حضور رحمتِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد حرام سے نہ صرف مسجد اقصی تک بلکہ جملہ سماوِی کائنات کی بے اَنت وُسعتوں کے اُس پار ’’قَابَ قَوْسَيْنِ‘‘ اور ’’أَوْ أَدْنَى‘‘ کے مقاماتِ بلند تک لے گیا اور آپ مدّتوں وہاں قیام کے بعد اُسی قلیل مدّتی زمینی ساعت میں اِس زمین پر دوبارہ جلوہ اَفروز بھی ہو گئے۔
قرآن کریم میں سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ارشادِ خداوندی ہے کہ
وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرم یعنی (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔
رجب کی ستائیسویں شب کو اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج کا شرف عطا کیا گیا۔اگرچہ اس واقعہ کے زمان کے بارے میں کئی روایات موجود ہیں لیکن محققین کی تحقیق کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے تین سال قبل پیش آیا،یعنی دسویں سالِ بعثت کو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ شیعہ سنی علما کا اتفاق ہے کہ نماز جناب ابو طالبؑ کی وفات کے بعد یعنی بعثت کے دسویں سال کو واجب ہوگئ تو پانچ وقت کی نماز اسی معراج کی رات امت پہ واجب ہو گئی تھی۔
منقول ہے کہ اس دن کفار نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت ستایا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم اپنی چچازاد بہن ام ہانی کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں آرام فرمانے لگے۔ ادھر اللّٰہ کے حکم سے حضرت جبریل پچاس ہزار فرشتوں کی برات اور براق لے کر نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
اے اللّٰہ کے رسول، آپ کا رب آپ سے ملاقات چاہتا ہے۔
چناں چہ سوئے عرش سفر کی تیاریاں ہونے لگیں۔ سفر معراج کا سلسلہ شروع ہونے والا تھا نبی رحمت کی بارگاہ میں براق حاضر کیا گیا جس پر حضور کو سوار ہونا تھا، مگر اللّٰہ کے پیارے محبوب نے کچھ توقف فرمایا۔
جبرئیل امین نے اس پس و پیش کی وجہ دریافت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا:
مجھ پر تو اللّٰہ رب العزت کی اس قدر نوازشات ہیں، مگر روز قیامت میری امت کا کیا ہو گا؟ میری امت پل صراط سے کیسے گزرے گی؟ اسی وقت اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے بشارت دی گئی : اے محبوب، آپ امت کی فکر نہ کیجیے، ہم آپ کی امت کو پل صراط سے اس طرح گزار دیں گے کہ اسے خبر بھی نہیں ہو گی۔
اس واضح بشارت کے بعد سر کار دو عالم براق پر سوار ہو گئے۔ جبرائیل امین نے رکاب تھامی،میکائیل نے لگام پکڑی، اسرافیل نے زین سنبھالی جس کے ساتھ ہی پچاس ہزار فرشتوں کے سلام کی صدا سے آسمان گونج اٹھے۔
حدیث میں آیا ہے۔
براق کی تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ جہاں تک نظر کی حد تھی، وہاں وہ قدم رکھتا تھا۔ براق کا سفر اس قدر تیز ی کے ساتھ ہوا جس تک انسان کی عقل پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ایسا لگتا تھا ہر طرف موسم بہار آگیا ہے۔ چاروں طرف نور ہی نور پھیلتا چلا گیا۔
اس سفر کے دوران آپ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے مسجد اقصی گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی۔ پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم آسمانوں میں اللّٰہ تعالٰی سے ملاقات کرنے تشریف لے گئے۔ وہاں اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کو جنت اور دوزخ دکھایا۔ وہاں آپ کی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی ہوئی۔ اسی سفر میں نماز بھی فرض ہوئی۔۔
معراج جسمانی اور روحانی ایک اختلافی مسئلہ رہا ہے مگر احادیثِ صحیحہ اور تفاسیر ِ معتبرہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ معراج جسمانی تھی اور خدا کے رسول نے فرش سے عرش تک بلکہ قاب قوسین او ادنیٰ تک کی منزل اپنے اسی جسم نازنین خاکی کے ساتھ طے کی تھیں مادہ اور مجرد میں ارتباط کیسے ہوا یہ ایک فلسفی بحث ہے جس کو فلسفہ میں حل ہونا چاہیے۔
معراج کمالِ معجزات مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ یہ وہ عظیم خارقِ عادت واقعہ ہے جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداء کی۔ اِنسان نے آگے چل کر تحقیق و جستجو کے بند کواڑوں پر دستک دی اور خلاء میں پیچیدہ راستوں کی تلاش کا فریضہ سر انجام دیا۔ رات کے مختصر سے وقفے میں جب اللّٰہ ربّ العزّت حضور رحمتِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد حرام سے نہ صرف مسجد اقصی تک بلکہ جملہ سماوِی کائنات کی بے اَنت وُسعتوں کے اُس پار ’’قَابَ قَوْسَيْنِ‘‘ اور ’’أَوْ أَدْنَى‘‘ کے مقاماتِ بلند تک لے گیا اور آپ مدّتوں وہاں قیام کے بعد اُسی قلیل مدّتی زمینی ساعت میں اِس زمین پر دوبارہ جلوہ اَفروز بھی ہو گئے۔
قرآن کریم میں سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ارشادِ خداوندی ہے کہ
وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرم یعنی (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔
سفرِمعراج کے پہلے مرحلے پر سفر جاری تھا کہ حضور رحمت عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبرِ انور کے قریب سے ہوا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ اپنی قبرِ انور میں کھڑے نماز ادا کر رہے تھے۔
انبیا صف بہ صف آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔
جب یہ مقدس قافلہ بیت المقدس پہنچا تو بابِ محمد، آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لیے کھلا تھا۔ جبرئیل امین علیہ السلام نے اپنی انگلی سے دروازے کے قریب موجود ایک پتھر میں سوراخ کیا اور براق کو اس سے باندھ دیا۔ پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس میں داخل ہوئے تو تمام انبیائے کرام علیہم السلام آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم، اِکرام اور اِحترام میں منتظر تھے۔ انہیں حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت میں نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔
انبیا حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر کے ادب و احترامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرف ہو چکے تو آسمانی سفر کا آغاز ہوا، اس لیے کہ ہر زمینی عظمت حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کا بوسہ لے چکی تھی۔ پہلے آسمان پر پہنچ کر آسمان کے دروازے پر دستک دی گئی۔ بوّاب پہلے سے منتظر تھا۔ آواز آئی : کون ہے؟۔۔۔ جبرئیل امین نے جواب دیا : میں جبرئیل ہوں۔۔ ۔۔ آواز آئی : آپ کے ساتھ کون ہے؟۔۔۔ جواب دیا : یہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ آج کی رات انہیں آسمانوں پر پزیرائی بخشی جائے گی۔ آسمان کا دروازہ کھل گیا اور پوچھنے والے نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ بیکس پناہ میں سلام عرض کرنے کی سعادت حاصل کی۔ مرحبا یا سیدی یا مرشدی مرحبا!
پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم آسمانوں کی طرف بڑھے اور جب آسمانِ دنیا پر آئے تو دروازہ کھٹکھٹایا۔ آواز آئی : کون؟ جبرئیل امین نے کہا : جبرئیل۔ پھر کہا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا : محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم۔ پھر پوچھا گیا : کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبرئیل نے کہا : ہاں۔ آواز آئی : خوش آمدید، کتنا اچھا آنے والا آیا ہے۔
رحمتِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ آپ کے جلیل القدر فرزند ہیں۔ ختم المرسلین ہیں۔ یہی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ آقائے دوجہاں صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے دادا جان کہہ کر آدم علیہ السلام کی بارگاہ میں سلام ارشاد فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے سلام کا جواب بھی عرض کیا اور اپنے عظیم فرزند کو دعاؤں سے بھی نوازا۔ اس کے بعد مہمانِ عرش حضور پُرنور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو دوسرے آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ پہلے آسمان کی طرح بوّاب نے دوسرے آسمان کا بھی دروازہ کھولا۔ یہاں حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا عیسی علیہ السلام اور یحیی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ اس یادگار ملاقات اور آسمان کے ملکوتی مشاہدات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیسرے آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ تیسرے آسمان پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات سیدنا یوسف علیہ السلام سے کرائی گئی۔ تیسرے آسمان کے مشاہداتِ نورانی کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چوتھے آسمان پر پہنچایا گیا۔ چوتھے آسمان پر تاجدارِ کائنات صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات حضرت ہارون علیہ السلام سے کرائی گئی۔ اسی طرح حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سفرِ معراج طے کرتے ہوئے چھٹے آسمان پر پہنچے اور سیدنا مو سی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ حضرت موسی علیہ السلام کی چشمانِ مقدس اشکبار ہو گئیں۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و رفعت کو دیکھ کر رشک کے آنسو چھلک پڑے۔ آپ کی زبانِ اقدس سے بے اختیار نکلا کہ خدائے بزرگ و برتر کے یہ وہ برگزیدہ رسول ہیں جن کی امت کو میری امت پر شرف عطا کیا گیا۔ میری امت پر جسے بزرگی عطا ہوئی یہ وہی رسولِ برحق ہیں جن کی امت کو میری امت کے مقابلے میں کثرت کے ساتھ جنت میں داخل کیا گیا۔ مہمانِ ذی حشم حضور رحمتِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی۔ اس کے بعد، حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم، جو تخلیق میں واحد ہستی ہیں، جبریل امین کے ساتھ سدرہ المنتہی تک سفر کیا۔ اس مقام پر اللّٰہ نے انسانوں کو پانچ نمازوں کا تحفہ عنایت کیا۔
معراج کا واقعہ جس رات پیش آیا اس رات رسول صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چچازاد بہن ام ہانی کے گھر مقیم تھے۔ آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی تو سب نے اسے ہلکا لیا اور مشرکین طعنہ دینے لگے کہ رسول اللّٰہ راتوں رات آسمان گئے ہیں۔ سب نے تردید کی پر جب لوگوں نے حضرت ابوبکر کو اس واقعے کے متعلق آگاہ کیا تو ابوبکر نے فورا تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بات رسول اللّٰہ نے بتائی ہے۔ لوگوں نے کہا ہاں بالکل۔ ابوبکر نے کہا رسول اللّٰہ نے بتائی ہے پھر تو سچ ہے۔ حضرت ابوبکر کے اس بات نے رسول اللّٰہ کو بہت متاثر کیا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دیا۔
مکہ کا ایک شخص جو شام اور فلسطین زیادہ سفر کیا کرتا تھا آیا اور بولا اگر آپ واقعی راتوں رات مسجد اقصیٰ اور پھر آسمانوں میں گئے ہیں تو مجھے مسجد اقصیٰ کا پتہ ہے میں آپ سے سوالات پوچھتا ہوں آپ جواب دیں۔ پھر اس شخص نے رسول اللّٰہ سے مسجد اقصیٰ اور اس کے خد و خال کے متعلق بے شمار سوالات کیے اور رسول اللّہ نے سب کے ٹھیک ٹھیک جوابات دئے۔ اس شخص نے رسول اللّٰہ کے تمام جوابات کو درست قرار دیا۔
آب کی دعاؤں کا طلب گار ڈاکٹر ابوبکر جواد
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ آمین رب العلمین آمین
جَـــــــــــــــــــزَاک الـــلّٰـــهُ خَـــــــــيْراً کَـــــــــثِیْراً و احسن الجزاء فِــــــــي الْـــــــــدُّنْــــــــــيَا وَالاَخِــــــــــرَةْ و بارک اللّٰہ۔ آمین یا رب العالمین
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیر کرین شکریہ
