ترکی کے بہت بڑے عالم دین،محدث و فقیہ حضرت شیخ سراج امین علیہ الرحمہ بروز جمعہ کو تقریبا 94 سال کی عمر میں انتقال فرماگئے۔
آج استنبول کی مسجد فاتح کے جنازہ گاہ میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی ترکی کے صدر طیب اردگان نے اپنی کابینہ سیمت آپ کے جنازے میں شرکت کی اور کندھا دینے کی سعادت حاصل کی۔حضرت شیخ آمین سراج علیہ الرحمہ کی شخصیت میں آخر کیا ایسی بات تھی کہ اسلام پسند صدر بھی آپ کے عقیدت مندوں میں شامل تھا
اس بات کو جاننے کے لئے ماضی میں جانا پڑے گا ٹھیک آج سے تقریبا سو سال قبل جب سلطنت عثمانیہ ختم ہو رہی تھی تو سلطنت کے سب سے آخری شیخ الاسلام و مفتی اعظم حضرت مصطفی صبری علیہ الرحمہ پر بھی عرصہ حیات تنگ ہوا اور انہیں جلا وطن ہو کر مصر جانا پڑا شیخ مصطفی صبری کے ساتھ ان کے ہونہار شاگرد حضرت زاہد الکوثری علیہ الرحمہ بھی جلا وطن ہوئے
مصر جا کر ان حضرات نے شمع دل بلند کی
حضرت آمین سراج علیہ الرحمہ کی پیدائش 1348ھ بمطابق 1929 کو ہوئی اور ابتدائی تعلیم استنبول میں حاصل کرنے کے بعد وہ مصر چلے گئے جہاں شیخ زاہد الکوثری اور شیخ الاسلام مصطفی صبری کی شاگردی میں رہے اور دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مسجد فاتح سے منسلک جامعہ میں درس و تدریس کا آغاز کیا الحاد کی آندھیوں کا ڈٹ کا مقابلہ کیا اور علم کی شمع جلا کر رکھی 62 سال تک دین پڑھاتے رہے ان کی وجہ سے ترکی میں دین کی بنیادیں مضبوط ہوئیں
سلطنت عثمانیہ کے ٹوٹنے کے بعد بعض لوگوں نے جو یہ چاہا تھا کہ اسلام سے اس کا قوم کا رشتہ ہی ختم ہو جائے یا برائے نام رہ جائے
شیخ سراج آمین کا شمار ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے خاموش جد و جہد کے ذریعے اس فتنہ کو کامیاب نہیں ہونے دیا عظمت اسلام کو زندہ رکھا۔
اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے
از قلم: مفتی علی اصغر
