میرے ایک دوست نے کہا مولانا کس فاونڈیشن کو نفلی صدقات دینا بہتر رہے گا؟
عرض کیا: کہ بس سورة البقرہ کی آیت نمبر 215 سن لیجیے آپ کو جواب مل جائے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
*يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ*
*لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ (اﷲ کی خوشنودی کیلئے) کیا خرچ کریں ؟*
*آپ کہہ دیجئے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہونا چاہیئے اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو، اﷲ اس سے پوری طرح با خبر ہے*
لہذا بندہ سمجھ دار تھا کہنے لگا میں نے تو کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا میں
تو کسی بڑے ٹرسٹ کو صدقات دینے کا سوچ رہا تھا لیکن اب اس آیت کے مطابق اپنے قریبی رشتہ داروں سے شروع کروں گا
یہ صرف ان کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے اپنے علاقے کے اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ دور دراز لوگوں کی مدد کا سوچتے ہیں اور اپنے پڑوس بلکہ اپنے خاندان میں بیشمار مستحق لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں حالانکہ قران کا منشا یہ نہیں
لہذا سب دوست اس بارے میں مذکورہ بالا آیت کو مد نظر رکھیں۔
جزاک اللہ خیر
(منقول)
