تقسیم ہند سے قبل میاں عبدالعزیز ارائیں نے اپنے نام کی جگہ "عزیز پاکستانی" لکھنا شروع کیا تو انگریز سرکار کو آگ لگ گئ دفتر میں طلبی ہوئی کہ تم تاج برطانیہ کے ملازم ہوتے ہوئے نام کے ساتھ پاکستانی نہیں لکھ سکتے
اس محب پاکستان نے بحث و تکرار شروع کردی اور بات اتنی بڑھ گئ کہ عزیز پاکستانی نے ہاتھ میں پکڑی فائل انگریز کے منہ پر ماری نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا مگر اپنا نام "عزیز پاکستانی " ہی رکھا...جالندھر سے ہجرت کرکے سائیوال میں سکونت اختیار کرنے والے عزیز پاکستانی کے بیٹے نے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس ملک سے پیار محبت اور وفا کی انتہا کردی
طارق عزیز کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی انہوں نے مرنے سے قبل اپنی تمام جائداد پاکستان کو وقف کردی انکی وصیت کے مطابق تدفین سے قبل انکی پراپرٹی اور 4 کروڑ 41 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرادی گئ...
سچ بات تو یہ ہے کہ ہمارے اصل ہیروز تو "عزیز پاکستانی" اور "طارق عزیز" جیسے لوگ ہیں جو قومی خزانے کو لوٹتے نہیں بلکہ عمر بھر کی محنت و مشقت کی کمائ بھی اپنے ملک پر قربان کردیتے ہیں...
اللہ سبحانہ وتعالیٰ انکی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے۔
آمین یارب العالمین
