01 اکتوبر 1915
یوم پیدائش. مولانا عبد الستار خان نیازی
مولانا عبدالستار خان نیازی میانوالی کے سب سے معتبر سیاست دان تھے انہوں نے تحریک پاکستان شاندار کردار ادا کیا تھا. آج کل کے پاکستانی لیڈروں میں خاص طور پر مذہبی لیڈروں میں کوئی ایسا موجود نہیں جو ان کا ہمسر قرار دیا جاسکے
مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی یکم اکتوبر 1915ء کو ضلع میانوالی کے گاؤں اٹک پنوالا تحصیل عیسیٰ خیل
میں پیدا ہوئے،آپ کے والد ذوالفقارخان ایک نیک سیرت اور پاکباز انسان تھے،دینی گھرانہ ہونے کی وجہ سے مولانا نیازی کو بچپن ہی سے مذہبی ماحول میسر آیا،
1933ء میں مولانا عبدالستار خان نیازی نے میٹرک پاس کیا اور حصول تعلیم کیلئے لاہور تشریف لے آئے،لاہور میں آپ نے انجمن حمایت اسلام کے زیر انتظام” اشاعت اسلام کالج” میں داخلہ لے لیا اور1936ء میں”ماہر تبلیغ”کی حیثیت سے کالج میں ٹاپ کیا،اسی دوران مولانا عبدالستار خان نیازی کی ملاقات حکیم الامت علامہ اقبال سے ہوئی،اسرار خودی کے مطالعے نے فارسی پڑھنے کے شوق کو اِس قدر ابھارا کہ مولانا نیازی نے چھ ماہ میں منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کرلیا،اسی سال آپ نے ایف اے کا امتحان دیا اور اسلامیہ کالج لاہور میں بی اے میں داخلہ لے لیا،مولانا عبدالستار خان نیازی نے 1938ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں ایم اے عربی میں داخلہ لے لیا اورایم اے کرنے کے بعد 1942ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں ڈین آف اسلامک اسٹیڈیز کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں
یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر پاک وہند میں کانگریس اور مسلم لیگ کا بڑا چرچا تھا،نیشنلسٹ طلباء کی تنظیم”نیشنل اسٹوڈینس فیڈریشن”تعلیمی اداروں میں چھائی ہوئی تھی،چنانچہ1936ء میں مولانا نیازی،مولانا ابراہیم علی چشتی ،میاں محمد شفیع (م،ش)مشہور صحافی حمید نظامی اورعبدالسلام خورشید نے علامہ اقبال کی قیام گاہ پر اُن کے مشورے سے طلباء کی تنظیم ”دی مسلم اسٹوڈینس فیڈریشن ”کی بنیاد رکھی،جس کا مقصد مسلم طلباء کو نیشنلسٹوں کے اثر سے بچانا اور سیاسی شعور اجاگر کرکے قیام پاکستان کی راۂ ہموار کرنا تھا،مولانا نیازی 1938ء میں اِس تنظیم کے صدر منتخب ہوئے،صدر منتخب ہونے کے بعد آپ نے ”مسلم اسٹوڈینس فیڈریشن ”کے منشور میں پہلی تبدیلی یہ کی کہ ”مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ خطہ زمین جس میں مسلمانوں کی حکومت ہو”کو خلافت پاکستان”کا نام دیا، 1939میں میں مولانا جاری ہے
